ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ’عرب سپرنگ‘ نے صحافیوں کے تحفظ سے متعلق صحافتی اداروں کی پالیسی کیسے بدلی؟

’عرب سپرنگ‘ نے صحافیوں کے تحفظ سے متعلق صحافتی اداروں کی پالیسی کیسے بدلی؟

Sat, 24 Apr 2021 16:40:24    S.O. News Service

دبئی، 24 اپریل(ایس او نیوز؍ایجنسی)   صحافتی آزادیوں پر کام کرنے والی عالمی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) کی ایک رپورٹ کے مطابق،عرب ملکوں میں دس سال قبل عرب بہار یا ’عرب سپرنگ‘ کے نام سے شروع ہونے والی تحریک کے دوران مصر، لیبیا، شام، تیونس اور یمن میں 189 صحافی پرتشدد واقعات میں ہلاک ہوئے ہیں۔

 ایزل ساہنکیا اور نامو عبداللہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ان عرب ممالک میں جمہوریت کے لیے شروع ہونے والی تحریکوں کے دوران فری لانس امریکی صحافیوں کی ہلاکتوں کی وجہ سے میڈیا کمیونٹی پر گہرا اثر پڑا۔ان صحافیوں میں شام میں ہلاک ہونے والے فری لانس صحافی جیمز فولی، سٹیون سوٹلوف اور فوٹو جرنلسٹس ٹم ہیٹرنگٹن اور کرس ہنڈارس شامل تھے۔

وائس آف امریکہ کی رپورٹ کے مطابق، امن و امان کی صورتحال کے لحاظ سے خطرناک علاقوں میں ان امریکی صحافیوں کی ہلاکت کی وجہ سے خبر رساں اداروں نے جنگ زدہ علاقوں میں صحافیوں کو بھیجنے کے سلسلے میں نئی پالیسیاں وضع کرنے پر غور شروع کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق، ان پالیسیوں میں ابتدائی طور پر خانہ جنگی کے عروج کے زمانے میں شام میں صحافیوں کو بھیجنا بند کرنے کی تاکید شامل تھی۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے ایک ایڈیٹر جان ڈانیس زیویسکی نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’جب اے پی نے شام میں شدید خطرات کی وجہ سے اپنے سٹاف کو نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا تو اس وقت یہ اصولی فیصلہ بھی کیا گیا کہ اس علاقے میں اے پی نہ ہی فری لانسر صحافیوں سے خبریں وصول کرے گا اور نہ ہی خبریں دی جائیں گی۔‘‘

ان کے مطابق، اس فیصلے کی وجہ یہ تھی کہ فری لانسر صحافیوں کو بالواسطہ بھی ایسے علاقے میں جانے کی حوصلہ افزائی نہ کی جائے جہاں انہیں شدید خطرات لاحق تھے۔

رپورٹ کے مطابق، ان پانچ عرب ممالک میں سے کئی ممالک اب بھی صحافیوں کے لیے شدید خطرات کے حامل ہیں جہاں خانہ جنگی کے بعد اقتدار پر قبضہ جمانے والے مطلق العنان حکمران صحافیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔

ان خطرات اور پرتشدد واقعات کے بعد ایسوسی ایٹڈ پریس اور رائٹر جیسے خبر رساں اداروں نے اے کلچر آف سیفٹی الائینس (اے سی او ایس الائینس) نامی اتحاد قائم کیا ہے۔

اے سی او ایس الائینس کی صدر اور صحافتی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس میں ہنگامی صورتحال کے شعبے کی ڈائریکٹر ماریا سالازار فیرو کے مطابق ’’عرب سپرنگ میں ہم نے جو دیکھا اور سب سے بڑھ کر فولی اور سوٹلوف جیسے فری لانس صحافیوں کے سر قلم ہونے کے بعد میڈیا کے ماحول میں ایک تبدیلی دیکھنے میں آئی۔‘‘

ان کے بقول ’’ہم یہاں ان دو نوجوان فری لانس صحافیوں کی بات کر رہے ہیں جو جنگ زدہ علاقوں میں کام کر رہے تھے اور انہیں صحافتی اداروں سے منسلک رپورٹرز جیسی مدد حاصل نہیں تھی"۔


Share: